Sadiq Garh Palace Destination Pakistan

صادق گڑھ محل جہاں تاریخ دم توڑ رہی ہے

Posted By : Laraib Zafar/ 553 0

نواب سر صادق محمد خان چہارم (پیدائش 1861ء وفات 1899ء) ریاست بہاولپور کے دسویں نواب تھے۔ آپ کے دور حکومت میں نور محل، صادق گڑھ پیلس اور دربار محل جیسی عظیم عمارتیں بنائی گئی۔

نواب سر صادق محمد خان چہارم (پیدائش 1861ء وفات 1899ء) ریاست بہاولپور کے دسویں نواب تھے۔ آپ کے دور حکومت میں نور محل، صادق گڑھ پیلس اور دربار محل جیسی عظیم عمارتیں بنائی گئی۔

Sadiq Garh Palace Destination Pakistan

ایک عزیز دوست نے ہمیں بہاولپور آنے کی دعوت دی اور دلی استقبال کے ساتھ ساتھ ہمارے سفر کے لیے تمام انتظامات بھی کیے، جس کے لیے انکی شُکر گزارہوں۔ بہاولپور سے کچھ فاصلے پر احمد پور شرقیہ میں سفید محل ہے جسے دنیا صادق گڑھ پیلس کے نام سے جانتی ہے۔
جُمعہ کی شام کراچی سے بہاولپور جانے والی بس سے ہم احمد پور شرقیہ پہنچے۔ دوست نے استقبال کیا اور ناشتہ کے بعد ہم صادق گڑھ محل کی طرف روانہ ہوگئے۔ یہ مرحلہ بھی طے ہُوا اور ہم مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوئے تو ہماری نگاہوں کی سیدھ میں دودھیا محل کھڑا تھا، یقین جانیئے میری آنکھوں نے ایسا انسانی شاہکار پہلے نہیں دیکھا تھا ۔ ہائے کیا دور ہوگا کیا سماں ہو گا جب صحرا کے وسط میں ایک سفید دودھیا محل آباد ہوا ہو گا۔ دور دور تک اس کے تذکرے ہوتے ہوں گے۔ جو اس کو ایک بار دیکھتا ہو گا اس کے حسن کا اسیر ہو جاتا ہو گا۔ ہمارے ساتھ ایک محترم گائیڈ تھے جو محل کے ماضی سے بخوبی واقف تھے۔ گائیڈ نے بتایا کہ اس کی تعمیر 1882 میں شروع ہوئی اور تیرہ سال بعد 1895 میں تکمیل کو پہنچی۔ مرکزی راستے سے آگے آئیں تو ایک بارہ دری آتی ہے اور پھر دودھیا پیلس جسے ہم بہاولپور کےصادق پیلس کے نام سے جانتے ہیں۔ تین منزلہ عمارت جس کی عین وسط میں ایک بڑا گنبد اور دائیں بائیں دو چھوٹے گنبد ہیں، محل کے احاطے میں گھاس اور مختلف رنگ کے گُلاب ہیں جن کی دیکھ بھال کے لیےآج بھی نواب خاندان کے باغبان اس کی خدمت میں ہیں ۔
محل میں داخل ہوتے ہی میں تاریخ کے ایک سو سال طے کر گئی، اندر داخل ہوتے ہی پانی کے فوارے جیسا ایک گول خطہ نظر آتا ہے جو کے مختلف سلطنتوں کے جھنڈے لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ساتھ ہی دو قدم پہ ایک وسیع و عریض ہال ہے جیسے دربار ہال سے منسوب کیا گیا، جہاں نواب صادق آف بہالپور کا دربار سجتا تھا۔ ہال کی سِرے پہ ایک دراز قدآئینہ ہے۔ ہمارے گائیڈ نے بتایا کہ یہ آئینہ بیلجیم سے منگوایا گیا تھا۔ آئینہ سمندری راستے سے کراچی اور پھر بذریعہ سڑک انتہائی احتیاط سے محل تک پہنچایا گیا۔ اس مرکزی آئینے کے ارد گرد بہت بڑے لیکن مرکزی آئینے سے چھوٹے آئینے ہیں۔ گائیڈ کے کہنے پہ آئینے میں جھانکا تو مجھے اپنی پشت پر بنی بارہ دری اور مرکزی راستہ دور دور تک دکھائی دیے۔

بیلجیم سے لایا گیا دربار ہال کا آئینہ
بیلجیم سے لایا گیا دربار ہال کا آئینہ

میں نے چھت پر نگاہ کی تو اس زمانے کے فن کاروں کو داد دیے بغیر نہ رہ سکی۔ ہال کے وسط میں سونے کا ایک قیمتی فانوس بھی موجود تھا جو کے زمانے کے ساتھ کہیں لاپتہ ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ’تقریباً 150 سال تک غلافِ کعبہ بہاولپور کی ریاست سے تیار ہو کر جاتا تھا۔ جب کعبے پر نیا غلاف چڑھایا جاتا تو پرانے غلاف کے کچھ حصے ریاست کے پاس آ جاتے۔ دربار ہال میں آج بھی وہ جگہ موجود ، جہاں مکہ مکرمہ سے آئے غلاف کعبہ کو عزت و تعزیم کے ساتھ لٹکایا جاتا تھا۔

غلاف کعبہ صادق محل میں
غلاف کعبہ صادق محل میں

محل میں رہائش کے لیے 120 کمرے ہیں۔ ہر کمرہ دوسرے کمرے سے مختلف ڈیزائن میں بنوایا گیا تا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے مہمان بور نہ ہوں۔ ایک کمرے کا نقش و نگار اور آرائش ترکی کے کلچر سے مناسبت رکھتا تھا اور کمرے کے عین وسط میں فوراہ تھا جس سے کمرے میں خوشبو کا کام لیا جاتا تھا ۔
اس کے علاوہ کانفرنس رومز، کچن بھی ہیں۔ محل میں ایک لائبریری بھی ہوا کرتی تھی۔ ڈائننگ روم ایک مستطیل شکل کا لمبا کمرہ ہے جس کے دائیں بائیں سوگوان لکڑی کے فریمز تھے کسی دور میں یہاں تیرہ نوابوں کی سونے کی تار سے بنی ہوئی تصویریں ہوا کرتی تھی ۔ سب سے دلچسپ مُجھے سن رومز لگے جہاں روشنی اور ہوا کا خاص اہتمام ہے۔ کمروں کے ساتھ متصل واش رومز بنائے گئے تھے ہر واش روم میں نہانے کے لئے باتھ ٹب بھی تھے

بیڈ روم
بیڈ روم

محل کی تین منزلوں پر اوپر نیچے جانے کے لئے سیڑھیوں کے علاوہ دو لفٹس بھی موجود تھیں۔ بس یوں کہیے کہ محل کا ہر حصّہ اپنے عظیم وقت کی شان و شوکت کی عکّاسی کرتا ہے ۔
سیڑھیوں سے تہہ خانے میں اترتے وقت محل میں آنے کا تجسس ہی بڑھ گیا ۔ محل کے تہہ خانے میں ریاست بہاولپور کا اپنا بینک ہُوا کرتا تھا، برطانیہ سے منگوائے گئے خصوصی لاکرز تہہ خانے میں ابھی باقی ہیں ۔ محل کے تہہ خانے سے سُرنگ کھودی گئی تھی جو کہ دوسرے محلوں تک زیرِ زمین راستہ تھا اور اس راستہ پر ایک رکشہ نُما گاڑی چلتی تھی ۔ گائیڈ نے بتایا کہ بھٹو کے زمانے میں جب محل پر کیس کیا گیا تو اس خُوفیہ راستے سارا قیمتی سامان دوسرے محل پہنچایا گیا ۔ اب یہ سُرنگ بند کردی گئی ہے ۔ تہہ خانہ میں ہوا کے لیے روشندان تھے۔ گائیڈ نے بتایا کہ گرمیوں کے موسم میں یہاں سانپ نکلتے ہیں بس اُن کا کہنا تھا کہ ہم فوراً اوپر آگئے ۔
محل کے احاطے میں مسجد کی خوبصورت سفید عمارت ہے جو دہلی کی جامع مسجد کے ڈیزائن کی عکاسی کرتی ہے۔ خوبصورت سنگ مرمر کے گنبد دور سے نظر آتے ہیں۔ اور قریب جانے پر یہ مسجد کئی گُنا زیادہ دلکش لگتی ہے ۔

صادق محل کی مسجد
صادق محل کی مسجد

مسجد سے چند قدم کے فاصلے اپنے دور کی نوابی گاڑی کا ڈھانچہ رہ گیا ہے اور اس کی نمبر پلیٹ کے حرف ابھی تک تو باقی ہیں آگے خُدا جانے ۔ محل کے دربار میں کھڑے ہو کر اس کے ماضی کو جب تصّورکیا تو سوچا کیا شان و شوکت سے دربار سجتا ہوگا ، ہر اہم مہمان کے آمد پر ریاستی فوجیوں کا گارڈ آف آنر ہوتا ہو گا اور اگلے ہی لمحے میں حال میں آجاتی ہوں جہاں سے یہ رونقیں ھجرت کر چُکی ہیں ۔ محل کی دیواروں کا رنگ اترتا جا رہا ہے، کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ رہے ہیں۔ وراثت اور ملکیت کے تناؤ میں یہ محل ایک عرصے سے بند ہے اور ہر گزرنے والا دن اس کی خستہ حالت میں اضافہ کر رہا ہے ۔ میں نے گایئڈ سے پوچھا کہ اس محل کا کیا مستقبل ہے تو انہوں نے کہا اس کا کوئی مستقبل نہیں، جواب تلخ ضرور تھا مگر غلط نہیں ۔
اس سے زیادہ بولتی تاریخی عمارت میں نے آج تک نہیں دیکھی جو کہ وقت کے بازوؤں میں اپنی داستان کے ساتھ دم توڑ رہی ہے، زینے پر تصویر بناتے وقت سیّد جونؔ ایلیا کا شعر یاد آیا کہ

اس گلی نے یہ سن کے صبر کیا،
جانے والے یہاں کے تھے ہی نہیں

نواب خاندان کے دور کی گاڑی
نواب خاندان کے دور کی گاڑی

Join our WhatsApp Group For Travel Pics, News, Live Updates, Hotel Prices

NAUNEHAL SINGH HAVELI/ VICTORIA SCHOOL FOR GIRLS, WALLED CITY, LAHORE

Posted By : Maaria Waseem/ 549 0

Haveli Naunehal Singh was built by Ranjit Singh for his grandson Naunehal Singh. Naunehal Singh was 19 years old when his father was poisoned and killed and the day he attended his father’s funeral on his way back he got injured by accident and later died. His death is a mystery till today whether it was an accident or murder.

Naunehal Singh

Naunehal Singh was grandson of Maharaja Ranjit Singh (Sher-e-Punjab) and son of Maharaja Kharak Singh.

Maharaja Ranjit Singh
Kharak Singh

Haveli Naunehal Singh was built by Ranjit Singh for his grandson Naunehal Singh. Naunehal Singh was 19 years old when his father was poisoned and killed and the day he attended his father’s funeral on his way back he got injured by accident and later died. His death is a mystery till today whether it was an accident or murder.

It is said that Naunehal Singh didn’t get to live in this Haveli even for a single day and later this Haveli was given to queen Victoria for the making of school which is now Victoria School for Girls.
This Haveli is located inside walled city between Lohari gate and Bhati gate. One reaches it through narrow winding passages and suddenly we come across a beautiful, heavily decorated and lofty colorful building. It’s a very unreal feeling for visitors who see it for the first time.

first glimpse

In front of the Haveli there is a huge courtyard or opening now known as the “paaiyan wala maidan” in punjabi which means “land of the brothers”. It is said that it was a garden before but now as the name says, the houses around the open land are most probably owned by brothers so this open space is called land of the brothers.

paiyyan wala maidan

The Haveli is rectangular in plan. It is a large building. The front facade is divided in two sections. One housing the entrance gate, which is profusely decorated and the other is simple but has plenty of fenestration. This Haveli is a master piece of Sikh architecture with intricate frescoes and stylized sculptural details on the front facade and back side of the building.

first section of front facade

The first section of the front facade is heavily decorated with colorful frescoes and stylized sculptural details of fairies, parrots and fishes at the cornice.

There are four storyes visible from outside the front facade. The ground storey has the main entrance wooden carved door fixed in a beautifully decorated arch with colorful frescoes. On the first storey above the entrance there is a huge jharoka style bay window with oriel windows on the sides. The cornice of the bay window is decorated with brightly colored reliefs of stylized fishes, fairies and parrots. The oriel windows on the sides and the areas between them are painted with colorful floral frescoes and low relief arches are made on top of them with low relief geometrical and floral patterns.

front entrance
frescoes and geometrical and floral pattern reliefs around the oriel windows/jharokas
cornice detail with beautiful composition of fairies, parrots and fishes

The second storey has a wooden jharoka with perforated jail work and the room next to it has perforated jali arches made with a wooden window in the center. The room on the third storey is also made exactly like the one below and all the perforation was done for the purpose of ventilation as well as for privacy.

wooden jharoka of second floor

The second section of the front facade is fairly simple as compared to the first section with windows in simple decorated low relief arches and miniature columns and the wall is divided in rectangular panels and in top panels we find reliefs of elephants. In the lower most portions we find wooden jalis/ventilators of the basement.

The back side of the Haveli is not decorated with colored frescoes instead it is brick colored and is decorated with very fine cut brick work and stucco work displaying intricate floral motifs. It seems that Sikh craftsmen especially excelled in this kind of masonry. This brick-work manifests its perfection under the jharokas also known as oriel windows and under the cornices. The carving of the bricks is extremely sharp, precise and accurate. Wood carving is noticeable on doors and windows and columns introduced at the corners of the jharokas/oriel windows. The lower portion of the facade has a huge entrance door in the middle and two large windows on the sides and the upper portion has a large dareecha style window/ balcony on top of the entrance door and on the sides there are jharokas/oriel windows with very intricate relief work patterns made of baked clay and cut brick work. There are reliefs of a pair of lions in between the jahorakas and the dareecha style window in the center.

back side elevation of haveli

The structure of the building has a basement and four floors above the ground level. The basement is no longer approachable. Ground and the first floor encompass the whole area with courtyard in the center, while the third floor is partially crumbled and the fourth storey stands in the north-western corner and is called Rang Mahal. The third and fourth storey rooms are designed in the style of Mughal hawa mahals which were used to be at the top of the royal buildings where fresh breeze could be enjoyed and at the same time a view of the surroundings could be relished while maintaining the privacy. These rooms of Naunihal Singh’s Haveli served these purposes very well. The rooms were used for entertainment and relaxation most probably for women because of the high perforated walls used for parda/ privacy purposes.

the courtyard in the center of the building with frescoes

According to my observation the original miniatures do not exists anymore and copies of famous miniatures are made in these niches in order to revive the colorful ambiance of the room during its conservation. Because in buildings made during Sikh era we find frescoes depicting Sikh life styles and their style of miniature paintings but the themes that we see in this room now are totally different. They are all from pahari school of miniature painting Depicting the story of Radha and Krishna and his gopis.

The rest of the building has lost most of the interior surface ornamentation due to its heavy use as a school building for over a hundred years. But still This Haveli surrounded by densely populated residential area stands in the center of it all like a beautiful colored flower in its full spring blossom.

Have you been to WALLED CITY/ Lahore? If yes, please share your experience in the comments below.